حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلمں سے پوچھا گیا کہ کو نسی عورت بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ عورت جب خاوند اس کی طرف نظر اٹھائے تو خاوند کو خوش کر دے، جب وہ کوئی حکم دے تو اس کا حکم بجالائے ، اپنی ذات اور خاوند کے مال میں خاوند کیمرضی کے خلاف ایسا کام نہ کرے جو اس کے خاوند کو نا پسند ہو۔
(نسائی)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی کی اہلیہ محترمہ حضرت ام حبیبہ کے پاس اس وقت گئی جب انکے والد حضرت ابوسفیان بن حرب کا انتقال ہوا تھا۔حضرت ام حبیبہ نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق یا کسی اور چیز کی ملاوٹ کی وجہ سے زردی تھی اس میں سے کچھ خوشبو لونڈی کو لگائی پھر اسے اپنے رخساروں پر مل لیا، اس کے بعد فرمایا: اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو عورتوں کی اصلاح کی روشنی کے استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بات صرف یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی کا سوگ منائے سوائے شوہر کے( کہ اسکا سوگ ) چار مہینے دس دن ہے۔ (بخاری)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس کے شوہر کا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس کی ماں کا ہے۔ (مستدرک حاکم)
