قابیل اور ہابیل
قابیل اور ہابیل حضرت آدم کے دو بیٹے تھے۔ دونوں کے درمیان ایک بات کو لے کر جھگڑا ہو گیا۔ قابیل نے ہابیل کو قتل کر ڈالا ، زمین پر یہ پہلی موت تھی اور اس بارے میں ابھی تک آدم کی شریعت میں کوئی حکم نہیں ملا تھا ، اس لیے قابیل پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کیا جائے؟
اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ اس کو دفن کرنے کا طریقہ سکھایا۔ یہ دیکھ کر قابیل کہنے لگا: ہائے افسوس! کیا میں ایسا گیا گذرا ہو گیا کہ اس کوے جیسا بھی نہ بن سکا۔
پھر اس نے اپنے بھائی کو دفن کر دیا۔ یہیں سے دفن کرنے کا طریقہ چلا آ رہا ہے ۔
حضور صلى الله عليه وسلم نے قابیل کے متعلق فرمایا : ”دنیا میں جب بھی کوئی شخص ظلما قتل کیا جاتا ہے، تو اس کا گناہ ( قابیل ) کو ضرور ملتا ہے، اس لیے کہ وہ پہلا شخص ہے جس نے ظالمانہ قتل کی ابتدا کی اور یہ ناپاک طریقہ جاری کیا ۔
اسی لیے انسان کو اپنی زندگی میں کسی گناہ کی ایجاد نہیں کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں اس گناہ کے کرنے والوں کا وبال اس کے سر نہ آئے ۔
اللہ کی قدرت
سورج اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ایک زبردست مخلوق ہے۔ اس سے ہمیں روشنی اور گرمی حاصل ہوتی ہے ، وہ روزانہ مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوبتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ قیامت کے قریب اُسے اپنی قدرت سے مشرق کے بجائے مغرب سے نکالے گا، اس کی لمبائی چوڑائی لاکھوں میل ہے، اور وزن کے اعتبار سے زمین کے مقابلہ میں لاکھوں گنا زیادہ ہے۔ اتنے وزنی اور بڑے سورج کو مقررہ نظام کے تحت چلانا اور کروڑوں میل کی دوری سے پوری دنیا کو روشنی اور گرمی عطا کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے۔
ایک فرض کے بارے میں
دین میں نماز کی اہمیت ایک شخص نے رسول اللہ اللہ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! اسلام میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کیا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا؛ اور جو شخص نماز کو ( جان بوجھ کر ) چھوڑ دے اس کا کوئی دین نہیں ہے، اور نماز دین کا ستون ہے۔
ایک سنت کے بارے میں
حضرت عبد اللہ بن عباس ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے وضو میں ) اپنے سر مبارک کا مسح فرمایا اور اس کے ساتھ دونوں کانوں کا بھی، (اس طریقے پر ) کہ کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلیوں سے مسح فرمایا اور باہر کے حصہ کا دونوں انگوٹھوں سے۔
ایک اہم عمل کی فضیلت
رسول اللہ سے محرم کی دسویں تاریخ کے روزہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : یہ روزہ پچھلے سال کے گناہوں ) کا کفارہ بن جاتا ہے۔
ایک گناہ کے بارے میں
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” جس نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس اتنا موجود تھا جس سے اس کی ضرورت پوری ہو سکتی تھی ، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ عیب دار اور (اس پر ) خراش ہوگی“۔
دنیا کے بارے میں
حضرت ابن عباس ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ اور آپ صلى الله عليه وسلم کے گھر والے بہت سی رات بھوکے رہتے تھے، ان کے پاس رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا، جب کہ ان کا کھانا عام طور سے جو کی روٹی ہوتی تھی۔
آخرت کے بارے میں
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” بے شک پر ہیز گار لوگ (جنت کے ) باغوں اور چشموں میں ہوں گے، ( ان کو کہا جائے گا) کہ تم ان باغوں میں امن وسلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ اور ہم ان کے دلوں کی آپسی رنجش کو (اس طرح) دور کر دیں گے کہ وہ بھائی بھائی بن کر رہیں گے اور وہ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گئے
طب نبوی سے علاج
دُبلے پن کا علاج
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب میری والدہ نے مجھے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس رخصت کرنے کا ارادہ کیا تو میرے دبلے پن کا علاج کرنے لگیں ،مگر کوئی علاج کارگر نہ ہوا، پھر میں نے تر کھجوروں کے ساتھ لکڑی کھانا شروع کیا تو میں معتدل جسم والی ہوگئی : یعنی دبلا پن دور ہو گیا۔
قرآن کی نصیحت
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا، اللہ نے ان کو ہلاک کرڈالا اور ان کا فروں کے لیے بھی اسی قسم کے حالات ہونے والے ہیں ،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دوست ہے اور کافروں کا کوئی دوست نہیں ہے۔
