جب بندہ تو بہ نصوح کر لیتا ہے تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ چار کام کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا:
گناہوں سے تو بہ کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح مٹاتے ہیں کہ جیسے اس نے کبھی گناہ کیے ہی نہیں تھے ۔
حدیث پاک میں ہے: ((التَائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ.))
گناہوں سے تو بہ کرنے والا ایسے ہو جاتا ہے کہ جیسے اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔
چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کر لیتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بندے کو آئندہ شیطان کے فریب اور ہتھکنڈوں سے بچالیتے ہیں۔ فرمایا:
ان عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ﴾ (الحجر:۴۲) یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔“
اس کا کیا مطلب ....؟ کیا وہ فرشتہ بن گیا ؟ کیا اس سے کوئی گناہ صادر ہی نہیں ہو سکتا؟ نہیں نہیں !! اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بھی اس سے کوئی ایسا گناہ تو ہو سکتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے گر جائے یا اسے اللہ کے دربار سے دھتکار دیا جائے لیکن اگر اس سے کوئی چھوٹی موٹی خطا ہوئی بھی تو فورا اس سے توبہ کر کے معافی مانگ لے گا۔
4
ایسے بندے کو اللہ تعالیٰ اس کی موت سے پہلے فرشتوں کو بھیج کر اس کے اچھے انجام کی خوشخبری سنادیتے ہیں۔ فرمایا:
تقلال عَلَيْهِمُ الْمَليكة أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْهرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (لحم السجدة : ٣٠)
” ان پر بے شک فرشتے ( یہ کہتے ہوئے ) اتریں گے کہ نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔“ اللہ رب العزت ہمیں بھی یہ نعمت عطا فرما دے۔ (آمین)
میرے دوستو! تو بہ کرتے رہیے، کرتے رہے حتی کہ اتنی بار تو بہ کیجیے کہ شیطان تھک جائے اور یہ کہے کہ یہ کیسا بندہ ہے کہ میں بار بار محنت کر کے گناہ کرواتا ہوں اور یہ تو بہ کر کے سب پر پانی پھیر دیتا ہے!؟ یہ بھی یادرکھیں کہ انسان اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ کرے۔