فرشتے

 


فرشتے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق اور اس کے معزز بندے ہیں ، وہ گناہوں سے پاک ہیں ، دن رات اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، جن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے ان کو لگا دیا ہے ، ان ہی میں لگے رہتے ہیں ، کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ۔ قرآن میں ہے: فرشتے اللہ کے کسی حکم میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ 


فرشتے نہ مرد ہیں نہ عورت وہ کھانے پینے کے محتاج نہیں، ان کی غذا اپنے رب کی عبادت و بندگی کرنا اور اس کے احکام کو بجالانا ہے ، وہ عبادت سے اُکتاتے نہیں ہیں ، وہ عبادت سے تکبر اور عار نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو شکلیں بدلنے کی طاقت دے رکھی ہے، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں ، آسمانوں اور زمینوں کے سارے انتظامات اللہ تعالیٰ نے ان کے سپرد کیے ہیں ۔ فرشتے بے شمار ہیں ، ان کی تعداد اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ 


ان میں چار فرشتے حضرت جبرئیل علیہ اسلام ,میکائیل علیہ اسلام حضرت اسرافیل علیہ السلام حضرت عزرائیل علیہ  مشہور و مقرب ہیں  


حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے احکام ، کتابیں اور پیغامات رسولوں کے پاس لاتے


حضرت میکائیل علیہ اسلام اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کو روزی پہنچانے اور بارش وغیرہ کے انتظامات پر مقرر ہیں ، ان کی ماتحتی میں بے شمار فرشتے کام کرتے ہیں، بعض بادلوں کے انتظام پر مقرر ہیں ، بعض ہواؤں ، بجلی اور کڑک وغیرہ پر اور بعض دریاؤں ، تالابوں اور نہروں وغیرہ پر مقرر ہیں۔ وہ تمام چیزوں کا انتظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔



حضرت اسرافیل علیہ السلام نظام قیامت کے دن صور پھونکیں گے۔


حضرت عزرائیل علیہ اسلام مخلوق کی روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ۔ ان کی ماتحتی میں بے شمار فرشتے ہیں ، مومن بندوں کی جان نکالنے والے فرشتے الگ ہوتے ہیں اور کافر بندوں کی جان نکالنے والے فرشتے الگ ہوتے ہیں۔ 


 ان چار مشہور فرشتوں کے علاوہ اور فرشتوں کا ذکر بھی قرآن وحدیث میں کیا گیا ہے، جن میں سے چند فرشتوں کے کام ذکر کیے جاتے ہیں:

چار فرشتے جن کو کراماً کاتبین کہتے ہیں، جن میں سے دو دن میں اور دورات میں ہر ایک بندے کے ساتھ ہوتے ہیں، ایک دائیں کندھے پر جو اس کی نیکی لکھتا ہے، دوسرا بائیں کندھے پر جو اس کی برائی لکھتا ہے۔ 


کچھ فرشتے آفتوں اور بلاؤں سے انسان کی حفاظت کرنے پر مقرر ہیں ، جو آگے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے ہیں، جن کو حفظہ کہا جاتا ہے۔ (سورۃ انعام :۶۱ ؛ سورہ رعد : 1]



کچھ فرشتے انسان کے مرجانے کے بعد قبر میں اس سے سوال کرنے پر مقرر ہیں ، جن کو منکر نکیر“ کہتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ کے تمام فرشتوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جو ان کا انکار کرے وہ مومن نہیں ہو سکتا ہے۔


Post a Comment

0 Comments