آج کا سبق نمبر ۳

 


فرشتوں کے بارے میں

فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، جو نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ہماری نظروں سے غائب ہیں۔ بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف کاموں پر لگا رکھا ہے ، وہ ہر وقت انہیں کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ فرشتے بے شمار ہیں، ان کی صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، ان میں چار فرشتے مشہور و مقرب ہیں۔ حضرت جبرئیل  جو اللہ کی کتابیں اور احکامات پیغمبروں کے پاس لاتے تھے۔ حضرت اسرافیل جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے صور پھونکیں گے۔ حضرت میکائیل جو بارش کا انتظام کرنے اور مخلوق کو روزی پہنچانے پر مقرر ہیں۔ حضرت عزرائیل ال جو مخلوق کی جان نکالنے پر مقرر ہیں۔ اسی طرح ان کے علاوہ بھی بہت سارے فرشتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی پاکی بیان کرنے میں لگے رہتے ہیں۔


 اللہ کی قدرت

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی غذا کے لیے دودھ کا انتظام فرمایا اور اس کے لیے گائے، بھینس ،اونٹ ، بکری جیسے جانور پیدا کیے، جو اپنے بچوں کو بھی دودھ پلاتے ہیں اور انسانوں کے لیے دودھ اور غذائی ضرورت کو بھی پورا کرتے ہیں۔ غور فرمائیں! تمام چوپائے ایک ہی طرح کی گھاس کھاتے ہیں، مگر ان جانوروں کے گوبر اور خون کے درمیان سے صاف ستھرا اور غذا سے بھر پور سفید دودھ کون نکالتا ہے؟ یقیناً انسانوں کے لیے لذیذ اور پاک صاف دودھ کا انتظام کرنا اللہ کی قدرت اور اس کی عجیب کاریگری ہے۔


 ایک فرض کے بارے میں

 غسل میں پورے بدن پر پانی بہانا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ” (جسم) کے ہر بال کے نیچے ناپا کی ہوتی ہے، لہذا تم بالوں کو دھوؤ اور بدن کو اچھی طرح صاف کرو۔ 

   جسم میں پورے بدن پر پانی کا پہنچانا فرض ہے۔ اس لیے خصوصا سر کے بالوں ، داڑھی وغیرہ کی جڑ میں پانی

پہنچانا چاہیے اور عورتوں کو اپنے بال کھول کر غسل کرنا چاہیے، تا کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ 


ایک سنت کے بارے میں 

وضو میں داڑھی کا خلال کرنا حضرت انس ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو فرماتے ، تو ہتھیلی میں پانی لیتے ، اسے ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے ہوئے (انگلیوں سے ) داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے: اسی طرح میرے رب نے حکم دیا۔ 


 ایک عمل کے بارے میں

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ” دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے پھلکے ہیں مگر اعمال کے ترازو میں بڑے وزنی ہیں، اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہیں، وہ دو کلے یہ ہیں: (سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ 


ایک گناہ کے بارے میں

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ” جس نے اپنا تہبند تکبر کے طور پر (زمین پر) گھسیٹا ، تو ایسے آدمی کو دوزخ میں روندا جائے گا۔


دنیا کے بارے میں

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "جو شخص آخرت کے کسی عمل سے دنیا چاہتا ہے، تو اس کے چہرے پر پھٹکار ہوتی ہے، اس کا ذکر مٹا دیا جاتا ہے اور اس کا نام دوزخ میں لکھ دیا جاتا ہے“۔


 آخرت کے بارے میں

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہمیشہ رہنے والے باغوں میں ہوں گے۔


 طب نبوی سے علاج 

تین چیزوں میں شفا ہے

حضرت ابن عباس ، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ” شفا تین چیزوں میں ہے شہد پینے میں پچھنہ لگانے میں آگ سے داغنے میں ۔ ” اور میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں“ (لہذا داغ کر علاج کرنے سے بچنا چاہیے)۔


قرآن کی نصیحت

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی سچی بات کہا کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے نیک اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔


Post a Comment

0 Comments