تقریر سود اور رشوت




نحمده ونصلي على رسوله الكريم . أما بعد: فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم:

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ ۖوَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ـ

وقـال الـنبـي صلى الله عليه وسلم يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ ، أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ - صدق الله العظيم وصدق رسوله النبي الكريم -

سامعین کرام! اسلام میں سود اور ربا کی حرمت کوئی مخفی چیز نہیں ہے ۔ ہرکس و ناکس اس سے واقف ہے، بلکہ جو کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہو ، وہ اتنا ضرور جانتا ہوگا کہ اسلام نے سوداور رشوت کوحرام قرار دیا اورپیع کوحلال قراردیا۔

اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا*

بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ ، أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ* کہ میری امت کے لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آۓ گا کہ لوگ اس بات کی پروانہیں کر یں گے کہ مال کو حلال طریقے سے کمایا یا حرام طریقے سے-

وقال النبي صلى الله عليه وسلم: الرِّبَا سَبْعُونَ حُوبًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ * کہ ربا کے ستر درجے ہیں ان میں سب سے ہلکا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے نعوذ بالله ـ

میرے محترم بزرگواور دوستو! یوں تو ہندوستان میں مختلف قسم کے حرام خور پاۓ جاتے ہیں اور مختلف طریقوں سے حرام خوری ہو رہی ہے۔ چوری کے ذریعہ، ڈکیتی کے ذریعہ، اغوا کر کے، ناپ تول میں کمی کر کے ، گھٹیا مال کو اعلی مال بتلا کر لیکن میری حقیر نظر میں سب سے خطرناک حرام خور وہ ہے جو سودخور اورشوت خور ہو۔ جس نے مملکت ہندکو تباہ وبربادکر دیا ہے وزیراعلیٰ سے لے کر چپراسی تک رشوت خوری میں مبتلا ہیں اور قانون چند پیسوں میں پک رہا ہے بے گناہ کو مجرم اور مجرموں کو بے گناہ ثابت کیا جار ہا ہے۔ گویا کہ آپ رشوت دے کر انسانوں کا ناحق خون بہا سکتے ہیں ، ان کے مستقبل سے کھیل سکتے ہیں ، ان کی صلاحیتوں کو تباہ کر سکتے ہیں ،رشوت دے کر آپ قانون کو خرید سکتے ہیں، جھوٹے گواہوں کا انتظام کر سکتے ہیں، زمین و مکانات پر ناجائز قبضہ کر سکتے ہیں ، امتحان میں اعلی نمبرات سے پاس ہو سکتے ہیں ۔ رشوت کی مہربانی سے آپ اپنے تمام جرائم پر خوش نما پردہ ڈال سکتے ہیں -
آج کل چلتا ہے یوں ہی کاروبار زندگی................
جرم کر کے پھنس گئے تو ،گھوس دے کر چھوٹ جا

یعنی دنیا کا ہر کام رشوت کے بل بوتے پر انجام دیا جاسکتا ہے لیکن اگر آپ رشوت دینے کی سکت اور حوصلہ نہیں رکھتے ، آپ قانون کی پاس داری کرتے ہیں ، آپ کو خوف خدا غالب ہے ، آپ غربت وافلاس کے شکار ہیں تو بس! لیجیے قانون کی پاس داری کرتے ہوۓ بھی آپ کو اپنی قیمتی زندگی جیل کی نذر کر نا پڑے گی -

چند ہی دنوں پہلے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک بے گناہ شخص کو آوارہ گردی کے الزام میں جیل خانے میں ڈال دیا گیا تھا آج اس کی ضمانت ہوئی جب اس کو داخل کیا گیا تھا تو وہ نوجوان تھا اور جب اس کو نکالا گیا تو اس کی کمر بھی خم ہو چکی تھی اس کے بال بھی سفید ہو چکے تھے وہ اپنے ماضی پر شرمندہ اورمستقبل سے مایوس ہو چکا تھا۔ کیوں کہ اس کے پاس رشوت دینے کی سکت نہیں تھی اس لئے اس کو اپنے قیمتی پچاس سال جیل کی نذر کرنے پڑے:

او رشوت کھانے والو!
لعنت ہو تمہاری زندگی پر تمہارے طرزعمل پر، کہ تم نے نہ جانے کتنے نوجوانوں کی جوانیوں کو تباہ کر دیا، نہ جانے کتنے گھروں کو اجاڑ دیا ، نہ جانے کتنی ماؤں سے ان کے بیٹوں کو جدا کر دیا ، نہ جانے کتنی بیبیوں سے ان کے شوہر کو چھین لیا، نہ جانے کتنی بہنوں سے ان کے بھائیوں کو جدا کر دیا تم نے محض اپنی ہوس کاری کے خاطر کتنے بے گناہوں کو مجرم اور کتنے مجرموں کو بے گناہ ثابت کر دیا -

ظالمو! تم نے قانون کے ساتھ غداری کی ہم ہندوستان کے بدترین دشمن ہو سوسائٹی کے غلط ترین مجرم ہو تمہارا جرم نا قابل معافی ہے ہم صرف ہندوستان کے قانون کے ساتھ ہی غدار نہیں ہو، بل کہ تم مجرموں کے خون کو چوس رہے ہو اور تم یہ کہ رہے ہو کہ ہندوستان میں غریبوں کو جینے کا حق نہیں ہے۔ اگر جینا چاہتے ہیں تو رشوت دے کر ہمارے پیٹ کے جہنم کو بھرنا پڑے گا۔ میں ان رشوت خور کتوں اور خاکی وردی والے ان پولیس کمشنروں سے ، یہ کالج اور یو نیورسٹی کے پروفیسروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ہندوستان میں قانون بن رہا تھا اور ڈاکٹر امبیڈ کر یہ قانون بنا رہے تھے تو یہ کیا پاس ہوا تھا کہ ہندوستان میں غریبوں کو جینے کا حق نہیں ہے؟ کیا یہی پاس ہوا تھا کہ مال دار عہد یدارعوام کے پیٹ پر لات مار سکتے ہیں ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ نعرے کیوں لگائے جاتے ہیں کہ ہندوستان میں غریبوں کو جینے کا حق نہیں ، اور مجھے شرم آرہی ہے کہتے ہوۓ کہ اس طرح کے نعرے لگانے والے، مطالبات کر نے والے محض غیر مسلم ہی نہیں بل کہ مسلمان عہد یدار بھی اس محنت میں پورے طور پر شامل ہیں۔ میں اپنے تمام مسلمان عہد یدار خصوصاً بزنس کرنے والوں ، فیکٹریاں چلانے والوں سے اپیل کروں گا کہ وہ رشوت کے لین دین کوختم کردیں، سودخوری کوترک کریں اپنے معاملات کو شرعی حدود کے دائرے میں انجام دیتے ہوئے اسلامی قوانین کی پاس داری کریں ۔
اللہ تمام مسلمانوں کو عمل کی توفیق عطافرمائے ۔

یارب! عمل خیر کی توفیق عطا کر
ہیں خیر کے طالب، رہ صدیق عطا کر
طویل عمر ہے درکار اس کے پڑھنے کو
ہماری داستاں، اوراق مختصر میں نہیں

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Post a Comment

0 Comments