بیان توحید کی اہمیت




Islamic Speech in Urdu Written for students On Tawheed


توحید کی اہمیت و فضیلت پر بہترین تقریر بمناسبت ماہ صفر

پہلا پوائنٹ/ تمہیدی کلمات/ بعنوان: توحید کی اہمیت و فضیلت/ بمناسبت/ ماہ صفر


نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ۔

فَاَعُوذُ بِاللہِ السمیع العلیم مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ ؕ

﴿وَمَآ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِن رَّسُوْلٍ إِلاَّ نُوْحِیْ ٓإِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ﴾

وَقَالَ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (( مَنْ مَّاتَ وَہُوَ یَعْلَمُ أنَّہُ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ )) [ رواہ مسلم]

برادرانِ اسلام ! توحید‘دین ِ اسلام کی اساس اور بنیاد ہے ۔ توحید‘ شریعت اسلام کا سب سے پہلا فریضہ ہے جس کا اقرار کرنا اور اسے دل وجان سے قبول کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ توحید‘ وہ چیز ہے کہ جس کے بغیر کوئی انسان دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا ۔توحید‘ ہی وہ نعمت ہے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں ( انبیاء ورسل علیہم السلام ) کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو غیر اللہ کی بندگی سے نکال کر ایک اللہ کی عبادت میں لگائیں ۔ توحید ‘ ہی وہ شئ ہے کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں اور ان گنت مسلمانوں نے اس کے لئے اپنی جانوں تک کو قربان کرکے جامِ شہادت نوش کیا ۔ ’ توحید‘ ہی وہ بنیادی فریضۂ دین ہے جو ایک مسلمان اور کافرکے درمیان فرق کرتاہے، اور ’ توحید‘ ہی وہ چیز ہے کہ اگر اسے کما حقہ قبول کرلیا جائے ، اس کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور اسی پر موت آئے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے ۔ اور اگر اسے کما حقہ قبول نہ کیا جائے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی وعید سنائی ہے اور اسے قبول نہ کرنے والے انسان پر جنت کو حرام کردیا ہے۔

محترم حضرات ! جب انسان کی نجات اور کامیابی و کامرانی کے لئے ’ توحید‘ اس قدر اہم ہے تو آئیے آج کے خطبہ میں ہم ان شاء اللہ توحید کی اہمیت و فضیلت کو بیان کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے حق بیان کرنے اور ہم سب کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ آمین

دوسرا پوائنٹ/ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن کریم کی روشنی میں/ بعنوان: توحید کی اہمیت و فضیلت/ بمناسبت/ ماہ صفر


1. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَمَآ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِن رَّسُوْلٍ إِلاَّ نُوْحِیْ ٓإِلَیْہِ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُوْنِ ﴾[الأنبیاء21: 25]

’’اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا اس پر یہی وحی نازل کی کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اس لئے تم سب میری ہی عبادت کرو ۔ ‘‘

2. فرمانِ الٰہی ہے :﴿ شَھِدَ اللّٰه أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ ہُوَ وَالْمَلَآئِکَۃُ وَاُوْلُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلٰہَ إِلاَّ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ﴾ [آل عمران3 :18]

’’اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود (برحق ) نہیں اور (اسی طرح ) فرشتے اور اہلِ علم بھی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عدل پر قائم ہے ، اس کے سوا کوئی معبود(برحق) نہیں۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

3. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ﴾[الأنعام:82]

’’جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔

4. ہوارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

﴿أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَـرَبَااللّٰه مَثَلاً کَلِمۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ أَصْلُھَا ثَابِتٌ وَفَرْعُھَا فِی السَّمَآء ، تُوْتِیْ أُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا﴾ (سورہ ابراہیم آیت :25-26)

’’کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال کس چیز سے دی ہے ؟اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک ایسی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے ‘‘

5. وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (البقرۃ:132)

اس کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا ۔

تیسرا پوائنٹ/توحید کی فضیلت احادیث کی روشنی میں/ بعنوان/ توحید کی اہمیت و فضیلت/ بمناسبت/ماہ صفر


1. بُنِیَ الْإِسْلَامُ عَلیٰ خَمْسٍ : شَھَادَۃِ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ … [متفق علیہ]

’’کہ) اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : سب سے پہلی چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں … الخ۔ ‘‘

2. حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

(( مَنْ مَّاتَ وَہُوَ یَعْلَمُ أنَّہُ لَا إلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ )) [ صحیح مسلم :26]

’’ جس شخص کی موت اس حالت میں آئی کہ اسے یقین تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

3. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے بڑا خوش نصیب کون ہو گا جس کے حق میں آپ شفاعت کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا :

(( لَقَدْ ظَنَنْتُ یَاأَبَا ہُرَیْرَۃَ ! أَنْ لَّا یَسْأَلَنِیْ عَنْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَحَدٌ أَوْلٰی مِنْکَ لِمَا رَأَیْتُ مِنْ حِرْصِکَ عَلَی الْحَدِیْثِ ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ:مَنْ قَالَ:لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ خَالِصًا مِّنْ قِبَلِ نَفْسِہٖ [ صحیح البخاری:99 و6570]))

’’ اے ابو ہریرہ ! مجھے یقین تھا کہ اس بارے میں تم ہی سوال کرو گے کیونکہ تمھیں احادیث سننے کا زیادہ شوق رہتاہے ۔ ( تو سنو ) قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت اس شخص کو نصیب ہو گی جس نے اپنے دل کی گہرائیوں سے اخلاص کے ساتھ لا إلہ إلا ا للّٰه کہا ۔

4. حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوتُ،فَیَقُومُ عَلیٰ جَنَازَتِہٖ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا یُشْرِکُونَ بِاللّٰہِ شَیْئًا إِلَّا شَفَّعَہُمُ اللّٰہُ فِیْہِ[صحیح مسلم : 948]))

’’ جو مسلمان فوت ہوجائے ، پھر اس کی نمازِ جنازہ میں چالیس افراد شرکت کریں جنہوں نے کبھی اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرایا تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول کرلیتا ہے۔‘‘

5. عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا ‘ تو ان سے فرمایا کہ تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ اس لیے جب تم وہاں پہنچو تو پہلے انہیں دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔ وہ اس بات میں جب تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ دینا ضروری قرار دیا ہے ‘ یہ ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں پر خرچ کی جائے گی۔ پھر جب وہ اس میں بھی تمہاری بات مان لیں تو ان کے اچھے مال لینے سے بچو اور مظلوم کی آہ سے ڈرو کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ [صحیح بخاری:1496]

چوتھا پوائنٹ/ توحید کی اہمیت و فضیلت واقعات کی روشنی میں/ بعنوان: توحید کی اہمیت و فضیلت/ بمناسبت/ ماہ صفر


1. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’ تم سے پہلی امتوں میں ایک ایساشخص تھا جس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا ، البتہ وہ توحید پرست تھا ۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا :دیکھو ! جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلوں کی طرح ہوجاؤں ۔ پھر ان کوئلوں کو پیس کر میری راکھ کو تیز ہواؤں میں اڑادینا ۔‘‘

چنانچہ جب وہ مرگیا تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں آیا تو اللہ نے اس سے پوچھا : اے آدم کے بیٹے ! تم نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس نے کہا : اے میرے رب ! تیرے ڈر کی وجہ سے ۔ تو اس بنا پر اس کی مغفرت کردی گئی حالانکہ اس نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا سوائے توحید کے ۔‘‘ [ مسند أحمد :304/2 ۔ وأصلہ فی الصحیحین]

2. حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے میری امت کے ایک شخص کو پکارا جائے گا ، پھر اس کے سامنے ۹۹ رجسٹر پھیلادئے جائیں گے جن میں سے ہر رجسٹر حدِ نگاہ تک لمبا ہوگا ۔ پھر اس سے پوچھا جائے گا :کیا تم اپنے ان اعمال میں سے کسی عمل کا انکار کرتے ہو ؟ وہ کہے گا : نہیں اے میرے رب ! پھر اسے کہا جائے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر یا کوئی نیکی ہے ؟ تو وہ شخص ڈر جائے گا اور کہے گا : نہیں۔ تو اسے کہا جائے گا : کیوں نہیں ، تیری ایک نیکی ہمارے پاس محفوظ ہے اور آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ پھر اس کے لئے ایک کارڈ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا : ( أَشْہَدُ أنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ )

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں۔ ‘‘

وہ کہے گا : اے میرے رب ! یہ کارڈ اتنے رجسٹروں کے سامنے تو کچھ بھی نہیں !

اسے کہا جائے گا : آج تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ۔ پھر تمام رجسٹروں کو ترازو کے ایک پلڑے میں اور اس کارڈ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا ۔چنانچہ رجسٹروں والا پلڑا اوپر اٹھ جائے گا اور کارڈ والا پلڑا جھک جائے گا۔‘‘[ سنن الترمذی:2641ابن ماجہ:4300،مسند أحمد:213/2،أحمد شاکر:إسنادہ صحیح]

3. حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جس کے ساتھ میں آپ کا ذکر کروں اور اس کے ساتھ آپ سے دعا مانگوں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے کہا : اے موسیٰ تم ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ پڑھا کرو ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب ! یہ تو تیرے تمام بندے پڑھتے ہیں ؟

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اگر ساتوں آسمان اور میرے علاوہ ان میں رہنے والے تمام کے تمام اوراسی طرح ساتوں زمینوں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کودوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کا وزن زیادہ ہوگا۔‘‘[عمل الیوم واللیلۃ للنسائی:834،ابن حبان:2324،قال الحافظ فی الفتح:175/11: أخرجہ النسائی بسند صحیح]

4. حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا تھا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان محض کجاوے کی لکڑی کا فاصلہ تھا ۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ اے معاذ بن جبل ! ‘‘ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں ۔

پھر کچھ دیر آپ چلتے رہے ۔ پھر فرمایا :’’ اے معاذ بن جبل ! ‘‘

میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں ۔ پھر کچھ دیر آپ چلتے رہے ۔ پھر فرمایا :

’’ اے معاذ بن جبل ! ‘‘ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں ۔پھر کچھ دیر آپ چلتے رہے ۔

یعنی کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟

میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔

’’ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ ‘‘

پھر آپ کچھ دیر چلتے رہے ۔ آگے جاکر آپ نے فرمایا :

’’ اے معاذ بن جبل ! ‘‘ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔

’’ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اگر وہ ایسا کرلیں تو اللہ تعالیٰ پر بندوں کا حق کیا ہے؟‘‘

میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔

’’ اللہ پربندوں کا حق یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے ۔‘‘[صحیح البخاری: 2856،صحیح مسلم:30]

5. سعید بن مسیب کے والد بیان کرتے ہیں: کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ لا إله إلا الله پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار ان سے یہی کہتے رہے ( کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں ) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے ( کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے لا إله إلا الله پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين‏ ”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء‏ کہ ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔[صحیح بخاری:4772]

وما علینا إلا البلاغ المبين
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Post a Comment

0 Comments