اللہ رب العزت نے انسانوں کی تمام کامیابیوں کا دارو مدار انسان کے اندر کی محنت پر رکھا ہے۔ کامیابی اور نا کامی انسان کے اندر کے حالات کا نام ہے
یہ حالات ایک قسم کی مخلوق ہے جو نظر نہیں آتی ، جس طرح فرشتے خدا کی مخلوق ہیں مگر نظر نہیں آتے۔ انبیاء علیہم السلام کو یہ مخلوق دکھلائی جاتی ہے اس لیے دنیا کی پھیلی ہوئی چیزوں اور نقشوں کا نام کا میابی اور نا کامی نہیں ہے۔
عزت وذلت
راحت و تکلیف
سکون و پریشانی
صحت و بیماری
تو ان حالات کے بنے اور بگڑنے کا دنیا میں پھیلی ہوئی شکلوں اور نقشوں سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے انسان کے اندر کی مایہ اللہ کی ذات کا یقین اور اللہ کے اوامر ہیں۔اب اگر انسان کے اندر اللہ کی ذات کا یقین ہوگا اور اللہ کے اوامر اس کے جسم سے ٹھیک ٹھیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم والے طریقے کے مطابق نکلیں گے تو اللہ جل شانہ اس انسان کے اندر کامیابی والے حالات پیدا فرما دیں گے خواہ ظاہری اسباب اور چیزیں کچھ بھی اس کے پاس نہ ہوں۔
کیونکہ اللہ پاک تمام کائنات کے ہر ذرے کے ہر فرد کے بنانے والے اور ہر ذرے اور ہر فرد کی ہر ضرورت کو ہر وقت اپنی ذات سے پورا کرنے والے خالق اور مالک ہیں۔
اللہ رب العزت نے ہر چیز کو اپنی قدرت سے بنایا ہے۔ چیزیں اللہ کے بنانے سے ان کے چاہنے سے بنی ہیں۔ یہ چیزیں خود نہیں بنیں انہیں اللہ رب العزت نے بنایا ہے۔ وہ ان چیزوں کو بنانے والے ہیں۔
اللہ رب العزت خود بنے نہیں ہیں۔
جو چیزیں کسی کے بنانے سے بنی ہوں تو بنی ہوئی چیزوں سے کچھ نہیں بنتا ہے۔
زمین اور آسمان اور ان کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے۔ ان سے کچھ نہیں بنتا۔ جو کچھ قدرت سے بنا ہے وہ قدرت کے ماتحت ہے۔
لیکن اس وقت ہمارے ماحول میں یہ بات چل رہی ہے ہم لوگ یوں کہہ رہے ہیں کہ زمین اور آسمان کے درمیان جو چیزیں اللہ نے بنائی ہیں وہ انسانوں کے استعمال کرنے کے لیے بنائی ہیں۔
نہیں میرے دوستو! اللہ نے جو چیز میں اپنی قدرت سے بنائی ہیں ان چیزوں کو اللہ نے بنا کر اپنی قدرت میں رکھا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ قدرت سے یہ چیزیں بن گئیں تو بننے کے بعد یہ چیزیں قدرت سے خارج کر دی گئی ہوں بلکہ اللہ رب العزت نے جو کچھ قدرت سے بنایا ہے وہ ہر وقت ان کے قبضے میں ہے۔
وہی ہر چیز کو خود استعمال فرماتے ہیں۔ وہ جب چاہیں اپنی قدرت سے ان شکلوں کو بدل دیں اور کسی چیز کی شکل کو چاہے قائم رکھ کر اس کی خوبی کو اس کی صفت کو بدل دیں، یعنی یہ بات نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے جس چیز سے جو تاثیر وقتی طور سے دیکھلا دی وہ تاثیر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس چیز کی ہوگئی۔
میرے دوستو ! اول تو کسی چیز میں کوئی تاثیر ہے ہی نہیں، تاثیر اللہ کے کرم میں ہے، شکلوں میں کوئی تاثیر نہیں ہے، شکلیں تو ساری کی ساری مٹی سے بنائی ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر چیز اپنی قدرت سے بنائی ہے تو قدرت ہر وقت اس چیز میں کام کرتی رہتی ہے۔ اس بات کو ہمیں بار بار سوچنا پڑے گا غور کرنا پڑے گا لوگوں سے کہنا پڑے گا کہ جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہو رہا ہے ان سب کا تعلق ان پھیلی ہوئی شکلوں اور نقشوں سے نہیں ہے، بلکہ اللہ رب العزت کی ذات عالی تن تنہا جو چاہتی ہے وہ کرتی ہے۔
ان کا تعلق نہ تو ان اسباب سے ہے جنہیں اللہ نے براہ راست بنایا ہے اور نہ ان اسباب سے ہے جن اسباب کے بننے میں کسی درجے انسانوں کا ہاتھ لگا ہو۔
لکڑی کو سانپ بنا دیتے ہیں۔
سانپ کو لکڑی بنا دیتے ہیں۔
اس طرح ساری شکلوں پر خواہ وہ ملک کی ہو یا مال کی 'برف کی ہو یا بھاپ کی ساری شکلوں پر اللہ ہی کا قبضہ ہے۔ وہی ان شکلوں پر اپنے امر کو استعمال فرماتے ہیں ۔
جہاں سے انسان کو زندگی بنتی نظر آتی ہے وہیں سے زندگی کو بگاڑ کر دکھلاتے ہیں اور جہاں سے زندگی بگڑتی نظر آتی ہے وہیں سے زندگی کو بنا کر دکھلاتے ہیں۔
ساری چیزوں کے بغیر ریت پر ڈال کر پال کے دکھلاتے ہیں اور سارے ساز و سامان اور زندگی بننے کے سارے اسباب نیز چیزوں کے ہوتے ہوئے زندگی کو تباہ و برباد کر کے دکھاتے ہیں۔
اللہ جل شانہ کی ذات عالی سے ہمارا تعلق پیدا ہو جائے اور اللہ جل شانہ کی ذات عالی سے براہ راست فائدہ حاصل کرنے والے بن جائیں تو اسی کے لیے یعنی انسانوں کو کامیابی دلانے کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ رب العزت کے یہاں سے اللہ کے اوامر لے کر آئے ہیں۔
میرے دوستو! دیکھو اور اسے سمجھو
ایک راستہ ہے اللہ کے خزانوں سے کائنات کی شکلوں کے ذریعے فائدہ حاصل کرنے کا اور
ایک راستہ ہے اللہ کے خزانوں سے محمد کے ذریعے سے فائدہ حاصل کرنے کا ۔
یعنی اللہ رب العزت کی قدرت سے فائدہ اٹھانے کے اسباب اور کائنات میں پھیلے ہوئے نقشوں سے فائدہ اٹھانے کے اسباب یہ دونوں چیزیں بالکل مقابلہ کی ہیں،
دونوں فکر کی ہیں۔ اس لیے میرے دوستو! اللہ کی قدرت سے براہ راست فائدہ اٹھانے کے لیے حضور جو اللہ کی طرف سے اوامر لے کر آئے ہیں، جب وہ اوامر ہماری زندگیوں میں آکر محمد کے طریقے پر جسم سے صادر ہوں گئے تو اللہ جل شانہ ہر نقشے ہر سبب میں کامیابی دے کر دکھلائیں گے
اسی لیے سب سے پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں اپنے یقین اپنے جذبے اور اپنے طریقے جو ہم حالات کے آنے پر خاص طور سے اور دن رات پیش آنے والی ضرورتوں میں عام طور سے اختیار کرتے ہیں ان کے بدلنے کا ہم سے یہ کلمہ مطالبہ کر رہا ہے۔
صرف یقین کی تبدیلی پر ہی اللہ پاک اس زمین اور آسمان سے کئی گنا زیادہ بڑی جنت عطا فرمائے گا اور دنیا میں نقد فائدہ یہ ہوگا کہ جن جن شکلوں سے ہمارا یقین نکل کر اللہ کی ذات سے ہر چیز کے بننے کا اور حضور کے اعمال سے ہونے کا یقین آئے گا
تو یہ ساری کی ساری چیزیں جن سے ہمار ا یقین نکلے گا ان شکلوں کو اللہ ہمارے لیے مسخر کر دیں گے۔ اصل میں ہم پر جو دنیا کی شکلیں مسلط ہیں تو ان کا ہم پر تسلط ان کے یقینوں کی وجہ سے ہے ایک چھوٹے جانور سے لے کر بڑے بڑے عالمی نقشوں کے یقین نے انہیں ہم پر مسلط کر رکھا ہے۔
میرے دوستو! اللہ رب العزت نے ہمیں دعوت کی وہ محنت دی تھی، جس سے زمین اور آسمان کے درمیان کا سارا کا سارا نظام داعی کے لیے مسخر ہو جائے جس طرح اصحاب کہف کے لیے سورج کو مسخر کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک جماعت دشمن کے مقابلے پر ہے ادھر سورج غروب ہو رہا ہے اور ابھی عصر کی نماز ادا کرنا باقی ہے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے اللہ سورج کو یہیں روک دے تو سورج وہیں رک گیا، ٹھہر گیا جب تک دشمن سے مقابلہ کر کے فارغ نہ ہو گئے سورج وہیں رکا رہا،
یعنی عصر کی نماز کے تقاضے پر سورج رکا ہوا ہے۔
میرے دوستو عزیز و بزرگو! یہ بات اپنے ذہن سے نکال دو کہ اسباب پر دعوت چلے گئی اسباب پر دعوت نہیں چلا کرتی، بلکہ دعوت پر وہ اسباب چلا کرتے ہیں، جن اسباب تک کی رسائی نہیں ہے۔ پہنچ نہیں ہے۔
میرے دوستو! ہدایت، اسباب پر بھی موقوف نہیں ہوئی ہے۔ ہمیشہ اسباب کا موافق ہوتا ہدایت کی محنت پر موقوف رہا۔ تمام انبیاء کی دعوت کے واقعات کو اٹھا کر دیکھو ہر جگہ یہ ملے گا کہ بغیر اسباب کے قدم اٹھایا تو اللہ نے اسباب کو موافق کر دیا یہ نہیں کہ تم اسباب پر ہدایت کو لاؤ۔
تمام انبیا علیہم السلام کی دعوت کا خلاصہ یہی ہے کہ ہدایت کی محنت پر اسباب موافق ہوئے ہیں۔ جن جن چیزوں سے ہمارا یقین نکل جائے گا ان ساری چیزوں کو اللہ پاک مسخر فرمادیں گے۔